02 Aayat (Bajirao Mastani) - Arijit Singh (SongsMp3.Com).mp3

Time is a great healer.


Hard isn't it? Trying to stay strong for everyone around you, with a pasted on smile that quickly goes away when you're alone. I know it's tough trying to kill something that's on the inside, that eats you alive, and there's nothing you can do about it. No matter how hard you try, it just doesn't go away. I know it ain't easy, but I know things will get better.Time is a great healer

میرا انتخاب
كبھی كچه چيزيں اپُنا آپُ ديكها كردل اور دماغ دونوں كو گہری سوچ ميں دهكيل كر اپُنے ساته بہا لے جاتی ہيں_ اور اک کيفيت امڈ آتی ہے اندر جس ميں لفظ ملتے نہيں _ اور گر مل جاتے ہيں تو احساس كو چهيل كر بونا بنا ديتے ہيں _ ايسے ميں بهرم ركه لينا چاہئے _ خاموش ره كر ___ ! كر ركها تها چہره اپُنا دكه سكه سے بے پُروا اس نے ___ ! ميری طرف تكنے سے پُہلے 'چاروں طرف ديكها اس نے' ___ !


زندگی !

"زندگی کی پہلی شرط زندہ رہنا ہے۔ کسی کے ہونے نہ ہونے سے زندگی رُک نہیں جاتی۔ چلتی رہتی ہے اکثر وہ لوگ جن کو ہم اپنی زندگی کے لیے ناگزیر جانتے ہیں۔ اچانک بغیر کسی بڑی وجہ کے ہم سے دور چلے جائیں یا ہو جائیں۔ زندگی پھر بھی نہیں رکتی ، تھوڑی دشوار لگتی ہے مگر تمام تو نہیں ہوتی"

 

ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ ۔ ۔ ۔ !ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽﺭﺷﺘﮯ ﺑﮭﯽﺍﺣﺴﺎﺱ ﺑﮭﯽﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽﮨﻢ ﺑﮭﯽ ۔ ۔ ۔ !



آخری الوداع

یہ وہ الوداع تھا جو میری زندگی پر سب سے بھاری تھا۔ میں نہیں جانتا کہ روح کی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہوگی لیکن مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میری روح کے دھاگے ادھڑ رہے ہوں ، اس کا ریشہ ریشہ الگ ہو رہا ہو، کاش یہ میری زندگی کا آخری الوداع ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش اس وقت آخری الوداع کے ساتھ ہی میں بھی مٹ جاؤں کیونکہ اب مجھ میں مزید کوئی اور الوداع جھیلنے کی اک زرا سی سکت بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس آخری الوداع نے مجھے ریت کا بنا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔خشک ریت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جسے ہلکی سی ہوا کا جھونکا بھی ریزہ ریزہ کر سکتا تھا۔

 

تحریر : بچپن کا دسمبرمُصنف : ہاشم ندیم خان۔



خوش رہا کرو


خوش رہا کرو - پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا - اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے

  • صرف اس لئے کہا تھا کہ میں خود اس دور سے گزر چکا ہوں. برسوں تک خوب دل لگا کر پریشان رہا. شاید اس لئے کہ پریشان ہونا بے حد آسان ہے. لیکن سواۓ اس کے کہ چہرے پر غلط جگہ لائنیں پڑ گئیں ، کوئی فائدہ نہیں ہوا. اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چہرے پر لائنیں پڑنی ہی ہیں تو فقط وہاں پڑنی چاہئیں جہاں مسکرا...ہٹ سے بنتی ہیں

ہے ایک ہی شخص جہان میں کیا؟.



باپ کی محبت


جن کی بیٹیاں ایک غیر شخص کی محبت میں اپنے پیدا کرنے والوں کی محبت کو فراموش کر کے انہیں ان کی شفقتوں کے بدلے میں ذلتوں کے طوق دے جاتی ہیں' وہ بد نصیب پھر کبھی دنیا کے سامنے سر اتھاہ کر نہیں جی سکتے..


ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ


ﮐﮩﺘﮯ ﻫﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺧﻮﺩ ﭘﻪ ﺟﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯﻭﻩ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻗﻘﻨﻮﺱ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺟﻞ ﮐﺮ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯﯾﺎ ﭘﻬﺮ ﻭﻩ ﻏﺰﺍﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ. ﺟﺴﮯ ﺑﮯﺭﺣﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﭘﻨﮯﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺁﻭﺍﺯ"ﻏﺰﻝ" ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮑﻬﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﻫﮯ*ﻗﻘﻨﻮﺱﯾﻮﻧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﻣﺎﻻ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻗﻘﻨﻮﺱﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ- ﻭﮦ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.ﻣﮕﺮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ. ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﻮﻧﺴﻼ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟﮔﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮯ ﮐﻮ ﺁﮒ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺭﺍﮐﮫ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﺭﺍﮐﮫ ﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﻗﻘﻨﻮﺱ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ"ﮐﭽﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺩﮐﮫ ﺍﺯ ﺳﻌﺪﯼ ﺣﻤﯿﺪ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ"



سچی مُحبّت
نہ جِسمانی ہوتی ہے نہ رومانی۔۔۔۔!

سچی مُحبّت نہ جِسمانی ہوتی ہے نہ رومانی۔۔۔۔!

 

وہ بہت مصروف صبح تھی کہ ساڑھے آٹھ بجے کے قريب ايک بوڑھا شخص جو 80 سال کا ہو گا اپنے انگوٹھے کے ٹانکے نِکلوانے کيلئے آيا۔ اُسے 9 بجے کا وقت ديا گيا تھا مگر وہ جلدی ميں تھا کہ اُسے 9 بجے کسی اور جگہ پہنچنا ہے۔ ميں نے اہم معلومات لے ليں اور اُسے بيٹھنے کيلئے کہا کيونکہ اس کی باری آنے ميں ايک گھنٹہ سے زيادہ لگ جانے کا اندازہ تھا۔ ميں نے ديکھا کہ وہ بار بارگھڑی پر نظر ڈال رہا ہے اور پريشان لگتا ہے۔ اُس بزرگ کی پريشانی کا خيال کرتے ہوئے ميں نے خود اس کے زَخم کا مُعائنہ کيا تو زَخم مَندمل ہوا ديکھ کر ميں نے ايک ڈاکٹر سے مطلوبہ سامان لے کر خود اُس کے ٹانکے نِکال کر پٹی کر دی۔

 

ميں نے اسی اثناء ميں بزرگ سے پوچھا کہ “کيا اُسے کسی اور ڈاکٹر نے 9 بجے کا وقت ديا ہوا ہے کہ وہ اتنی جلدی ميں ہے ؟"وہ بولا کہ اُس نے ايک نرسنگ ہوم جانا ہے جہاں اُس نے 9 بجے اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرنا ہےاُس پر ميں نے بزرگ کی بيوی کی صحت کے بارے ميں پوچھا تو بزرگ نے بتايا کہ اس کی بيوی الزائمر بيماری کا شکار ہونے کے بعد کچھ عرصہ سے نرسنگ ہوم ميں ہےميں نے پوچھا کہ “اگر وہ وقت پر نہ پہنچے تو اس کی بيوی ناراض ہو گی ؟”اُس بزرگ نے جواب ديا کہ “وہ تو پچھلے 5 سال سے مجھے پہچانتی بھی نہيں ہے”

 

ميں نے حيران ہو کر پوچھا “اور آپ اس کے باوجود ہر صبح اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرتے ہيں؟ حالانکہ وہ پہچانتی بھی نہيں کہ آپ کون ہيں؟”بزرگ نے مسکرا کر کہا “درست کہ وہ مجھے نہيں جانتی مگر ميں تو اُسے جانتا ہوں کہ وہ کون ہے”

 

يہ سُن کر ميں نے بڑی مُشکل سے اپنے آنسو روکے گو ميرا کليجہ منہ کو آ رہا تھا۔ ميں نے سوچا “يہ ہے محبت جو ہر انسان کو چاہيئے"